ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / سرکاری ملازمتوں، تعلیمی اداروں میں 16 فیصد مراٹھا ریزرویشن۔ آخر کارمراٹھا ریزویشن تحریک اپنے منطقی انجام پر پہنچ گئی

سرکاری ملازمتوں، تعلیمی اداروں میں 16 فیصد مراٹھا ریزرویشن۔ آخر کارمراٹھا ریزویشن تحریک اپنے منطقی انجام پر پہنچ گئی

Fri, 30 Nov 2018 16:23:34    S.O. News Service

ممبئی29؍ نومبر(ایس او نیوز) مراٹھا ریزرویشن کے لئے ایک عرصہ سے جاری تحریک آج اُس وقت اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی جب ریاستی قانون ساز اسمبلی و کونسل کے دونوں ایوانوں میں مراٹھیوں کو سرکاری ملازتوں اور تعلیمی اداروں میں 16؍ فیصد تحفظات فراہم کرنے والا ’’مراٹھا ریزویشن بل 2018‘‘ بغیر کسی مخالفت کے صوتی ووٹوں سےمنظور کر لیا گیا۔وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے اس بل کو دو نوں ایوانوں میں پیش کیا جہاں تالیوں اور’’ جے بھوانی اور جے شیواجی‘‘ کےنعروں کے درمیان بر سر اقتدار بی جے پی ، شیو سینا اور راشٹریہ سماج پکش کے اراکین کے ساتھ ساتھ کانگریس ، این سی پی ،سماج وادی پارٹی ، کُل ہند مجلس اتحا د المسلمین ( ایم آئی ایم ) بھارپ بہو جن مہاسنگھ ( بی بی ایم ) بہو جن و کاس اگھاڑی ( بی وی اے )پیزنٹ اینڈ ورکرس پارٹی آف انڈیا ( پی ڈبلیو پی ) اور کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا ( مارکسٹ )( سی پی آئی ۔ایم ) کے اراکین نے اتفاق رائے سے منظور کرلیا ۔جس وقت یہ بل اسمبلی میں پیش کیا جارہا تھا اُس وقت وزیٹرس گلیری میں شیو سینا یو تھ لیڈر ادتیہ ٹھاکرے بھی مو جود تھے ۔

بہر کیف مراٹھا ریزرویشن بل بہ اتفاق رائے منظور کئے جانے پر وزیر اعلیٰ نےتمام پارٹیوں کا نام لے کر اُن کے اراکین کا شکریہ ادا کیا اور کہا جس طرح سبھی پارٹیوں نے اس بل کو منظور کرنے میں تعاون کیا اُس سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ ہم ایک ساتھ بیٹھ کر سماجی مسائل کا حل نکال سکتے ہیں ۔قبل ازیں اپو زیشن لیڈر رادھا کرشن ویکھے پاٹل ، اجیت پوار ( این سی پی ) اور گنپت رائو دیشمکھ ( پی ڈبلیو پی ) نے مراٹھیوں کوسرکاری ملازتوں اور تعلیمی اداروں میں 16؍ فیصد تحفظات فراہم کرنے پرحکومت کا شکر یہ ادا کیا ۔ واضح رہے کہ مراٹھا برادری کی سماجی اور تعلیمی پسماندگی کی بنیاد پر ریاست مہاراشٹر کے 30؍ فیصد مراٹھوں کے لئے 16؍ فیصد ریزرویشن کی رعایت رکھی گئی ہے ۔ جبکہ اس بل میں مہاراشٹر اسٹیٹ بیک ورڈ کلاس کمیشن کی رپو رٹ کی بنیاد پر مراٹھا سماج کے بارے میں تفصیلی طور پر 16؍ فیصدریزرویشن دیئے جانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ۔

ریاستی اسمبلی میں اس بل کو پیش کر نے سے پہلے وزیر اعلیٰ نے مہاراشٹر اسٹیٹ بیک ورڈ کلاس کمیشن کی سفارشات ایوان میں پیش کی اور بتایاکہ حکومت نے اِن سفارشات میں سے 3 ؍ اہم سفارشات کو قبول کر لیا ہے۔ حکومت نے کمیشن کی جن 3؍ سفارشات کو ترجیحی طور پر منظور کیا ہے اُن میں (1)مراٹھا طبقات کو سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ ظاہر کیاجائے اس کے علاوہ کمیشن نے سروے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی کہ مراٹھیوں کی سرکاری اورنیم سرکاری اداروں میں مناسب نمائندگی نہیں ہے ۔(2)مراٹھا طبقہ سماجی اور تعلیمی سطح پر پسماندہ ظاہر کئے جانے سے آئین کی دفعہ 15(4) اور16 (4) کے تحت مراٹھا طبقہ قانونی طور پر ریزرویشن کا حقدار ہے (3) حکومت کو غیر معمولی حالات میں مراٹھا طبقات کوسماجی اور تعلیمی سطح پر پسماندہ ظاہر کر نے آئینی حق حاصل ہے لیکن اس پر عمل پیرا ہو نے کے لئے قانون بنانا لاز می ہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ اِن سفارشات میں مراٹھا سماج کی تازہ صورتحال کے بابت جن باتوں کا تذ کرہ کیا گیا ہے اُن میں (1) 76.86؍ فیصد مراٹھا خاندان زندہ رہنے اور اپنی و اپنے اہل خانہ کی کفالت کے لئے کھیتوں میں مز دو ری کر تے ہیں ۔(2)صرف 6؍ فیصد ی مراٹھا سرکاری ملازمت یا نیم سرکاری اداروں میں ملازم ہیں اوراِن میں زیادہ ترچو تھے کلاس کے ملازم ہیں (3)تقریباً 70؍ فیصد مراٹھا خاندان کچے مٹی کے گھروں میں رہتے ہیں (4)صرف 35.39؍ فیصد مراٹھا حاندانکے پاس نل کے ذ ریعے پانی پہنچتا ہے (5)31.79؍ مراٹھا خاندان لکڑی جلاکر کھانا پکاتا ہے (6)سال2013۔تا۔-2018کے درمیان 13؍ ہزار 368؍ کسانوں نے خودکشی کی ان میں2؍ ہزار 152؍ یعنیٰ 23.56؍ فیصد کسان خالص مراٹھا تھے ۔

اس کے علاوہ ایکشن ٹیکن رپو رٹ میں دیگر جن باتوں کا تد کرہ کیا گیا ہے اُن میں اس بات کو کئی بار دُہرایا گیا ہے کہ مراٹھا سماج میں قدیم روایات آج بھی قائم ہیں اور73؍ فیصد مراٹھا معاشی ، اقتصادی او رتعلیمی طور پر پو ری طرح سے پسماندہ ہیں ۔اس کے علاوہ پچھلے 10؍ برسوں میں 21؍ فیصد مراٹھا روزی رو زگار کی تلاش میں گائوں چھو ڑ کر شہروں کیطرف کو چ کئے ۔ نیز88.81؍ خواتین پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے مزدوری کرتی ہیں ۔اس کے علاوہ93؍ فیصد مراٹھا خاندانوں کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ رو پئے سے کم ہے ۔جب کہ 24.2؍ فیصد مراٹھا خطہ افلاس س نیچے زندگی گذ ار رہے ہیں۔ علاوہ ازیں تعلیمی طور پر 77؍ فیصد مراٹھا ڈگری یافتہ ہیںلیکن وہیں 13.42؍ فیصد مراٹھا مکمل طور پر ان پڑ ھ ہیں نیز 31.31؍ فیصد مراٹھا سماج کے لو گ صرف پرائمری تک ( چو تھی جماعت ) تک تعلیم حاصل کی ہے جبکہ دیگر 43.79؍ فیصد 10؍ ویں یا 12؍ جماعت تک ہی تعلیم حاصل کر سکیں ہیں ۔


Share: